وقت انسان کو اپنے حالات سے سمجھوتہ کرنا سکھا دیتا ہے، ایک دور تھا جب دل میں کسی ذمہ داری کا خوف نہ تھا،کسی فیصلہ سے پہلے اس کے اپنی زندگی پر اثرات اور اپنے سے جڑے دوسرے لوگوں پر ہونے والے اثر پر کبھی غور نہیں کیا تھا، خواہش تھی کہ زندگی ایک آزاد پرندے کی مانند ہو، ایسی زندگی جس میں کوئی معاشرتی و معاشی قید نہ ہو، زندگی جس میں کوئی سوال و جواب، کوئی روک ٹوک نہ ہو، مگر وقت بہت بے رحم ہے یہ جہاں زخموں کو مندمل کرتا ہے تو وہاں بہت سے خواب ٹوٹنے پر اپنے حالات سے اکتفا کرنا بھی سکھا دیتا ہےاور ایسی ہزاروں حسرتیں انسان دل میں لیے زندگی کے کاروبار میں ایسا مصروف ہوتا ہے کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنی بہت سی خواہشات کا قتل کر دیتا ہے اور یہ کہ کے اپنے آپ کو تسلی دے لیتا ہے کہ یہ شاید میری قسمت میں ہی نہ تھا اور جو ہوتا ہے اسی میں کوئی بھلائی ہوتی ہے.
No comments:
Post a Comment